You are currently viewing اچانک سے آنے والی موت پر تنبیہ  –  علامہ صالح الفوزان حفظہ اللہ تعالیٰ

اچانک سے آنے والی موت پر تنبیہ – علامہ صالح الفوزان حفظہ اللہ تعالیٰ

اچانک سے آنے والی موت پر تنبیہ

فضیلۃ الشیخ علامہ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ تعالیٰ(لجنہ دائمہ سعودی عرب کے سنیئر ترین رکن)۔

 مترجم: أبو القاسم فائق ﺫو الفقار الحنبلي [متعلم كلية الشريعة في الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة، المملكة العربية السعودية]۔


شیخ فوزان حفظہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔

 وفي آخر الزمان – وتنبھوا لھذا- آخر الزمان يكثر موت الفجأة، أنت في عافية وفي قوة وفي شباب ثم تمتوت فجأة، إما بحادث سيارة، إما بسكتة قلبية، إما بأي سبب مفاجئ، وما أكثر ه‍ذا وأنتم تشاه‍دون ه‍ذا وتسمعونه، فعلينا أن نكثر من التوبة والاستغفار، ولا ننسى الدار الآخرة، ولا ننسى الموت، ولا ننسى الحساب، ثم في يوم القيامة موازين توزن فيه‍ا الاعمال، {فمن ثقلت موزينه} يعنى بالحسنات، {فأُولئِك ه‍م المفلحون. ومن خفت موزينه} رجحت سيئاته بحسناته {فأُولئِك الذين خسروا أنفسه‍م في حه‍نم خلدون} فأُولئِك الذين خسروا أنفسه‍م ما خروا أمواله‍م، خسروا أنفسه‍م، جزاءه‍م فى جه‍نم، جه‍نم يوم يومين، لا خالدون. أبد الآباد ولا حول ولا قوة إلا بالله۔

اس بات سے اچھی طرح باخبر ہو جائے کہ قرب قیامت، لوگوں پر موت کا اچانک واقع ہو جانا بکثرت ہو جائے گا، آپ صحت مند، تندرست اور جوانی میں ہے اور اچانک آپ کی موت ہو جاتی ہے. کسی ٹریفک حادثے کی وجہ سے یا دل کا دورہ آنے کے باعث یا پھر کسی بھی اچانک سے وقع پذیر ہونے والے سبب کی بنا پر آپ موت سے جا ملتے ہیں. اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ سب اپنے معاشرے میں اس چیز کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں اور اس کو سنتے بھی رہتے ہیں کہ لوگوں پر اچانک سے موت آ رہی ہے. پس ہم سب پر واجب ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کریں، آخری ٹھکانے کو نہ بھولیں، موت کو یاد رکھیں، اور محشر کے حساب و کتاب کی تیاری کریں، پھر اسی طرح یوم قیامت کے اس منظر کا خیال رکھیں کہ جب ترازو لگا کر اس میں اعمال تولے جائیں گے، اسی بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ} (پھر جس شخص کا پلڑا بھاری ہوگا) یعنی نیکیوں سے جس شخص کا پلڑا بھاری ہوگا تو ایسے شخص کے بارے میں رب تعالیٰ فرماتا ہے: {أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} (سو ایسے لوگ کامیاب ہونگے) اور وہ بھی ہے جس کے بارے میں ارشاد ہوا: {وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ} (اور جس شخص کا پلڑا ہلکا ہوگا) یعنی اسکے گناہوں کی وجہ سے اسکی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا. سو ایسے بندے کے بارے میں خالق کائنات فرماتا ہے: {فَأُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ} (وہ جنہوں نے اپنا نقصان آپ کرلیا جو ہمیشہ جہنم واصل ہوئے). پس یہ وہ لوگ ہے جنہوں نے اپنا نقصان کیا ہوگا، انہوں نے اپنی جائداد، اپنے سرمایہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہوگا بلکہ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہی نقصان پہنچایا ہوگا. ان کی جزا جہنم کے اندر آگ کی شکل میں انہیں ملے گی، یہ جزا کوئی ایک دو دن کی نہیں بلکہ ہمیشگی والی جو کبھی ختم نہ ہونے والی جہنم ہوگی!!! لا حول ولا قوة الا بالله – نہیں ہے کسی قسم کی قوت اور طاقت مگر اللہ کی مدد سے۔

 https://youtu.be/QtYBlVzYAOA  :مصدر

Leave a Reply