You are currently viewing کورونا وائرس اور برے لوگوں کی دوستی وصحبت – محترم شہزاد احمد پرہ

کورونا وائرس اور برے لوگوں کی دوستی وصحبت – محترم شہزاد احمد پرہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم :۔

المرء على دين خليله)۔)
ترجمہ: آدمی اپنے دوست اور ہم نشین کے دین پر ہوتا ہے۔

دوستی اور کورونا وایرس:۔

ساتھیوں جیسے کہ ہم سب اور پورا عالم ایک بات اچھی طرح سمجھ گیا ہے کہ اگر کورونا وائرس سے بچنا ہے تو لوگوں سے منقطع رہنا ہے حتاکہ عبادت گاہ ہو یا رشتہ داری ۔ آج لوگ حتاکہ ماں باپ وغیرہ بھی باہر سے آیے ہوئے اپنے احباب سے بھی دوری اختیار کرتے ہیں وجہ یہ ہے کہ کہی یہ بیمار ہم تک منتقل نہ ہوجاے۔

غرض کورونا وائرس نے سکھا دیا آخرکہ انسان کو چاہیے بیماری سے بچنے کے لیے خود کو دوسرے بیماروں سے پرہیز کریں لوگوں سے پرہیز کریں اور مشتبہ لوگوں سے بھی پرہیز کریں۔

اس نے تو سبق سکھایا :۔

برے اور شریر لوگوں کی صحبت و دوستی کورونا وائرس کی طرح روحانی امراض کا وائرس ہیں۔

دوستی میں احتیاط کرو ورنہ اخلاقی اور ایمانی مریض ہو جاوگے۔

 ہاں دوستوں صرف کورونا ویرس ایک دوسرے سے منتقل نہیں ہوتا۔ اس سے زیادہ خطرناک الحاد ،زندقہ،بدعات،شرکیات اور اخلاق رزیلہ کا ویرس بھی منتقل ہوتا رہتا ہے۔

virus free اچھی صحبت کی مثال

virus full اور بری صحبت کی مثال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی صحبت اور بری صحبت کو ایک عظیم مثال کے ساتھ سمجھایا چناچہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔

عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ: إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً ” (صحیح بخاری : 5534 ، صحیح مسلم :2628 )۔

یعنی : ابوموسی رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
کہ اچھے اور برے ساتھی کی مثال اس شخص کی سی ہے جو مشک (خوشبو ) لئے ہوئے ہے اور بھٹی دھونکنے والا ہے، مشک(ِخوشبو اور عطر فروش) والا یا تو تمہیں کچھ دیدے گا یا تم اس سے خرید لوگے یا اس کی خوشبو تم سونگھ لوگے(یعنی ہر صورت فائدہ ہی فائدہ ہے )۔
اور بھٹی والا یا تو تمہارے کپڑے جلادے گا یا تمہیں اس کی بدبو پہنچے گی۔ (یعنی ہر صورت میں نقصان ہی نقصان ہے )۔

یہی روایت سنن ابو داؤد (4829 ) وغیرہ میں انس رضی اللہ عنہسے بھی مروی ہے

اس حدیث کو آج لوگ بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔

اس حدیث میں دو قسم کے دوستوں کی خبر دی گی ہیں۔

آپ نے غور کیا کبھی؟

کتنے لوگ ایمان سے نکل کر کافر ہوے صرف برے لوگوں کی صحبت اور دوستی کی وجہ سے ۔ ہر بچہ مسلمان اور توحید پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کی ملی ہوی صحبت اسکو بگاڑتی ہے کبھی مجوسی کبھی یہودی کبھی باقی کافر۔

نیک وکار مرد یا عورت دین دار شریف النفس لوگ کتنے ہر روز اخلاقی اور بے دینی والے ویرس کی بیماری کے شکار ہوتے رہتے ہیں ۔ آپ کی ہم نشینی کسی بھی طرح کے ہو۔

یاد رکھے ضابطہ:۔

جس کے ساتھ بھی اپنا وقت بتاے وہ آپ کا ہم نشین ہم محفل اور دوست ہے آپ مانے اسکو دوست یا نا۔ چاہے آپ سے اسکا رابطہ بالواسطہ روبرو ہو یا بلا واسطہ

phone WhatsApp Facebook Twitter
Books magazines tv channels.

(Bad company is like a corona-virus too)

کافر سے کافرانہ افکار ملینگے ۔
منکر حدیث سے انکار حدیث کے افکار ملینگے ۔
خوارج سے انہی کے افکار ملینگے ۔
دنیا پرستوں سے دنیاوی حرص وکالت ملینگے ۔
خود غرضوں سے خود غرضی ملیگی۔
خواہشات اور فحاشی پرستوں سے فحاشی ملے گی ۔

اھل کفر وبدعت سے بدعت و کفر کے شکوک وشبھات لیے گا۔

اللہ تعالی نے تو بار بار قرآن کریم میں ت ڈرایا کہ ان بیماروں کے ساتھ مت بیٹھنا۔۔۔
جن کے دل بیمار ہو ۔
دل میں شکوک و شبہات ہو ۔
افکار ملحدانہ اور کافرانہ ہو۔
چال منافقانہ ہو۔۔

قرآن کریم کی آیت مبارکہ۔۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:۔

 وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْ آیَاتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ وَإمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ [الانعام :۶۸]

ترجمہ: ۔
اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کررہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہوجائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تویادآنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں۔

امام شوکانی رح نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوے فرمایا:۔

اس میں ایسے شخص کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے جواہل بدعت کی مجالس میں شرکت کی اجازت دیتاہے۔ {فتح القدیر}

كورونا وايرس كى طرح بدعات كل وايرس بھی ہے:۔

سلف صالحین کی فہم و فراست ۔

پہلے نمبر پر:۔

جلیل القدیر صحابی عبد اللہ ابن عباس رضي الله عنهما ے کہا :۔

“لا تجالس أهل الأهواء فإن مجالستهم ممرضة للقلوب. [الإبانة (2/438)]۔

ترجمہ: اے (صحت مند دل و ایمان رکھنے والے مسلمان) بدعات پرستوں کے ساتھ مت بیٹھ بے شک ان کی ہم نشینی میں دل کی بیماری ہے۔

قارئین کرام :۔
اگر اھل بدعات سے دوری اختیار نہ کی تو برابر کرونا وایرس کی طرح نفاق والے وایرس کے شکار ہوجاوگے۔

جلیل القدر امام فضيل بن عياض کی وصیت میں اس ے فرمایا فرمایا:۔

“علامة النفاق أن يقوم الرجل ويقعد مع صاحب بدعة”
[حلية الأولياء (8/104)]

ترجمہ: ۔
 نفاق والی بیماری کی علامت یہ ہے کہ ایک آدمی بدعتی کے ساتھ اٹھے بیٹھے ۔

كورونا وايرس نے واضح کیا کہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ ہی بیماری پہلتی ہیں۔ اس وائرس کا علاج صرف یہ ہے کہ وہ اپنے اور ان مریضوں کے درمیان فاصلہ رکھے ۔

امام فضیل ابن عیاض نے بھی کہا:۔

“أحب أن يكون بيني وبين صاحب بدعة حصن من حديد”
[الإبانة لابن بطة (2/460)]

ترجمہ :۔
میں یہ چاہتا ہوں کے میرے اور صاحب بدعت کے درمیان ایک لوہے کا قلعہ (دیوار ) ہو ۔

قال رجل لأيوب السختياني:۔

يا أبا بكر أسألك عن كلمة. قال: فرأيته يشير بيده ويقول: ولا نصف كلمة ولا نصف كلمة. [الإبانة (2/472)]۔

Today people care from corona-virus by masks, glows etc etc so that the virus can not reach to them.

جلیل القدر امام ابن سيرين رحمہ کے بارے میں آتا ہے کہ:۔

” أنّه كان إذا سمع كلمة من صاحب بدعة وضع إصبعيه في أذنيه “

ترجمہ:۔
جب وہ کبھی کوی لظ کسی بدعتی سے سنتے تو وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال دیا کرتے (کہی یہ بیماری دل کو نہ چھولے)۔

اسی طرح بہت سے علماء کرتے جیسے امام طاؤس امام ابن سیرین وغیرہ کانوں میں انگلیاں ڈال دیا کرتے ۔ مطالعہ کریں کتاب (الإبانة وغیرہ کا )۔

كورونا وايرس والے مریض جب کسی راستے سے گزرتے ہے تو لوگ آپ ے اپنے راست بدل دیتے ہیں ۔خوف اور جان کی قیمت جان کر۔

صاحب بدعت:۔
امام يحيى بن أبي كثير رحمہ اللہ فرما تے ہے کہ اے ( تندرست عقیدہ والے سنی مسلمان ):۔

إذا لقيت صاحب بدعة في طريق فخذ في طريق آخر [الإبانة (2/475)]۔

ترجمہ:۔
جب تجھے راستے میں کسی بدعتی کا سامنا ہوجایے تو تم اپنا راستہ بدل دینا۔

To whom we sit

Who are our Facebook friends?
Who are our group friends ?
Who are our colleges?
To whole we consume most time any way .

(CHECK YOUR REPORT IS IT POSITIVE OR NEGATIVE )

 اگر آپ صحیح العقیدہ اور بیت نیک وکار ہونگے پھر بھی معاینہ ٹیسٹ کرو کہی بیمار تو مت ہو۔

دوست صحيح تو آپ بھی صحیح
ور ہ عکس

انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے اور اپنے دوستوں کے دین پر ہوتا ہے جیسا کہ کسی شاعر کا کلام ہے:۔

“عن المرء لا تسئل وسل عن قرینہ”
“فکل قرین بالمقارن یقتدی”

ترجمہ:۔
کسی بھی آدمی کے بارے میں مت پوچھ بلکہ اس کے دوست کے متعلق پوچھ۔ کیونکہ دوست اپنے دوستوں کے پیروکار ہوتے ہیں۔

احادیث کی روشنی میں:۔

: نبی کریمﷺ نے فرمایا

لاتصاحب الا مؤمناولا یأکل طعامک الا تقی) [ابوداؤد،ترمذی]۔)

ترجمہ:۔
صرف مومن شخص کی صحبت اختیار کر،اور تیرا کھانا صرف متقی شخص کھائے۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔

الرجل علی دین خلیلہ فلینظر أحدکم من یخالل) [ابوداؤد،ترمذی]۔)

ترجمہ:۔
آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے،پس چاہئیے کہ تم میں سے ہر شخص اپنے دوست کو دیکھے۔

These ahadith clear who is Free of diseases And who is affected

تاریخ میں بھت سے افراد آپ کو ملینگے جو سنت والے تھے بڑے شاید بھی تھےعلم والے بھی تھے مگر بدعت کے وائرس کے شکار ہوے۔ ان کو کہا گیا تھا ان سے مت دوستی کرو ان سے منقطع رہنا مگر انہوں نے کہا یہ وائرس ہم کو کیا کرے گا ہم وہ ہے یہ ہے ایسے ہے ویسے ہیں وغیرہ- پہر تاریخ نے ان کو محفوظ کرلیا۔۔۔۔
آپ اس بدعت اور اسکے اہل سے متعلق ضوابط مزید پڑتے کتاب (هجر المبتدع لكبر ابو زيد )۔

Virus on moral ethics

اخلاقی بحران آج کیوں؟

یہ بھی برابر ایک وایرس کی طرح ہے جو شیاطین الانس وشیاطین الجن کی طرف سے اسی طرح اور بھی بڑے بڑے لوگوں کا جھال پوری دنیا میں ہر طرح سے بچھایا ہوا ہے۔

اللہ ہم سب کو ایمان اور اخلاقی طور سلامتی رکھے ہر کسی ایمان اخلاقی اور جسمانی امراض سے محفوظ فرمائ۔

Leave a Reply