You are currently viewing مسئلہ سمع و طاعت میں حاکم کا اسلام دیکھا جائے گا، ریاست کا نظام نہیں  –  شیخ عبد المحسن العباد البدر

مسئلہ سمع و طاعت میں حاکم کا اسلام دیکھا جائے گا، ریاست کا نظام نہیں – شیخ عبد المحسن العباد البدر

مسئلہ سمع و طاعت میں حاکم کا اسلام دیکھا جائے گا، ریاست کا نظام نہیں

محدثِ مدینہ شیخ عبد المحسن العباد البدر حفظہ اللہ تعالیٰ (مدرسِ مسجدِ نبوی اور سابق رئیس جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ)۔

 مترجم: أبو القاسم فائق ﺫو الفقار الحنبلي [متعلم كلية الشريعة في الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة، المملكة العربية السعودية]۔


سائل:۔

 بارك الله فيكم، هل يسمع ويطاع لولاة أمور المسلمين في الدول التي تحكم بالديمقراطية؟

اللہ تعالیٰ آپ کو خیر و برکت عطا فرمائے، کیا جن ریاستوں میں ڈموکریسی (جمہوریت) کے ذریعے فیصلے کیے جاتے ہیں، ان میں مسلمانوں کے حکمرانوں کی سمع و طاعت کی جائے گی؟

شیخ عبد المحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ تعالیٰ:۔

الحاكم المسلم الذي لم يظهر منه كفر بواح عند الناس فيه من الله برهان يسمع له ويطاع، يسمع له ويطاع یعنی: مطلقا، ولا يجوز الخروج عليه. ومن وصل إلى أنه يكون عنده شيء يعني: كفر واضح عند الناس فيه منه برهان فإنه يجوز الخروج عليه لكن لا يُخرَج عليه إلا إذا تُحقِّق التخلص منه بأن يكون الخارجون عليه عندهم قوة تُخلِّصهم منه، أما إذا كان ما عندهم قوة كما أسلفتُ في الدرس، يعني يقضي عليهم هذا المتسلط، هذا السلطان يقضي عليهم ويبقى بمكانه، هذا ليس من الحكمة وليس من المصلحة في شيء۔

ایسا مسلمان حاکم جس سے وہ اعلانیہ کفر ظاہر نہ ہو جس کی لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل موجود ہو، تو یقیناً ایسے حاکم کے لیے سمع و طاعت ہے۔ نظام کے شرعی، غیر شرعی ہونے کی شرط کو دیکھے بغیر مطلق طور پر ایسے حاکم کی سنی بھی جائے گی اور پیروی بھی کی جائے گی۔ اس پر خروج قطعاً جائز نہیں۔ اس کے برعکس ایسا حاکم جو اس حد تک پہنچ جائے کہ اس میں یہ واضح کفر موجود ہو جس کی لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل ہو، تو ایسے حاکم پر خروج جائز ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس خروج سے یقینی طور پر اس کافر حاکم سے چھٹکارا حاصل ہو، اس اہتمام کے ساتھ کہ خروج کرنے والوں کے پاس اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی طاقت ہو لیکن اگر تو ان خروج کرنے والوں کے پاس یہ طاقت ہی نہ ہو – جیسا کہ میں درس میں بتا چکا ہوں – یعنی یہ کافر حاکم ان کا خاتمہ کرنے اور اقتدار پر برقرار رہنے کی طاقت رکھتا ہو تو نا ہی یہ دانشمندی میں سے ہے کہ اس پر خروج کیا جائے اور نا ہی اس میں کسی قسم کی مصلحت۔

https://youtu.be/zwIerQC6go4 مصدر:۔

Leave a Reply